One Of The Best School In Pakistan
Pens International SchoolPens International SchoolPens International School
(Mon-Fri)
info@pensinternational.edu.pk
Rawalpindi

تخلیق سے تحلیل تک

انسان کی زندگی چاہے کتنی ہی طویل یا کتنی ہی مختصر کیوں نہ ہو ، “تخلیق” اور “تحلیل” … یہ دو الفاظ اسکا بہترین احاطہ کرتے ہیں۔
“تخلیق ” سے “تحلیل” تک کے راستے میں زیادہ تعداد ان مسافروں کی ہے جو زندگی نام کی گاڑی کے مسافر تو ہیں لیکن نہ سفر کے مقصد سے واقف ہیں نہ اسکی سمت سے …. راستے میں آنے والے سٹیشنز کی چکا چوند پر انکی آنکھیں کچھ ایسے چندھیا جاتی ہیں کہ اس سے باہر کی دنیا کو دیکھ ہی نہیں پاتے۔۔۔عین اس لمحے کہ جب وہ کسی سٹال پر کھڑے کڑک چائے کی فرمائش کر رہے ہو تے ہوتے ہیں۔ یا کسی چٹ پٹے کھانے پر انگلیاں صاف کر رہے ہوتے ہیں زندگی کی گاڑی ایک ہانک لگاتی ہے، ” چلو مسافرو، کہ منزل ابھی دور ہے”۔ پھر لذتوں کے یہی پجاری بھاری دل کے ساتھ ہوس و یاس بھری نظروں سے ان پیالوں کو دیکھتے ہو ئے “چلو مسافرو” کی صدا لگاتی گاڑی پر چارو ناچار سوار ہو جاتے ہیں۔اب گاڑی کے اندر سامنے والی نشست پر بیٹھے کسی خوش پوش شخص کو دیکھ کر اپنے لباس کی شکنیں نکالنے کی سعی کرتے ہیں تو کبھی اپنے سے کمتر لوگوں کو حقارت کی نظر دیکھتے ہیں ۔۔۔۔ انکے ان تمام جذبات، خواہشات ، لالچ اور حسد کے احساسات سے قطعا لاتعلق زندگی کی گاڑی اپنی منزل کی جانب پیہم رواں ہے۔ اور حضرت انسان کو مو ت کی منزل تک پہنچا کر ہی دم لیتی ہے۔
قدرت کی بے مثال فنکاری سے “تخلیق” ہوئے انسان کی “تحلیل” کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ لباس تو قبر میں منتقل کرے سے قبل ہی اتار لیا جاتاہے۔۔۔۔ باقی رہا بدن ۔ تو تحلیل کرنے والی مٹی اور اس میں چھپے کیڑوں کو اس بات سے کوئ غرض نہیں کہ چمڑا کتنا کالا ہے یا سفید، ھاتھ کتنے نرم ہیں یا کتنے کرخت، پیشانی کتنی کشادہ ہے یا تنگ، اسکا کام تو بس تحلیل کرنا ہے اور وہ کر دیتی ہے۔اور حضرت انسان کے بقایا جات میں صرف مٹھی بھر ہڈیاں ہی بچتی ہیں۔ انکو بھی وقت کا ہر دم چلتا پہییہ خیالات سے محو کر دیتا ہے۔
جوباقی رہ جاتاہے اسکے بارے میں تو زندگی کے اس مسافر نے کبھی سوچا ہی نہیں ۔ قدرت کا “تخلیق” کردہ یہ شاہکار جتنی آنکھوں میں امید کی شمعیں روشن کر گیا۔۔۔۔جتنوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کر گیا۔۔۔۔ جتنے دھتکارے ہووں کو ادب اور احترام کے لمحات دے گیا ان سب کی دعاوں سے ، مسکراہٹوں سے، امیدوں سے وہ کبھی “تحلیل” نہیں ہوگا کیونکہ یہاں تک “تحلیل” کرنے والی مٹی کی رسائ ہی نہیں!!!
اک دن بک جائے گا ماٹی کے مول
جگ میں رہ جائیں گے پیارے تیرے بول

2 Comments

Leave A Comment

X